قانون سفارت خانہ یروشلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قانون سفارت خانہ یروشلم، 1995
Great Seal of the United States
مکمل نام قانون برائے منتقلی امریکی سفارت خانہ و دیگر مقاصد۔
سرنامیہ (مکالمانہ نام) JEA
قانونی حیثیت بذریعہ 104واں ریاست ہائۓ متحدہ کانگریس
نافذ العمل 8 نومبر 1995ء
قانونی حوالہ جات
قانونِ عامہ 104–45
قوانین او ضابطوں کاسرکاری مجموعہ 109 Stat. 398
ترتیب قوانین
قوانین میں ترمیم نہیں
عنوان میں ترمیم نہیں
یو.ایس.سی. قوانین موضوعہ نقل و اشاعت نہیں
تاریخ وضع قوانین

قانون سفارت خانہ یروشلم، 1995ء سے مراد وہ قانون ہے جسے امریکی کانگریس نے 23 اکتوبر 1995ء کو منظور اور 8 نومبر 1995ء کو نافذ کیا۔ اس قانون کی منظوری کا مقصد یہ تھا کہ تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کی کوشش کی جائے نیز یروشلم کو مملکت اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کیا جائے۔ اس قانون کے مطابق منتقلی کی میعاد مئی 1999ء مقرر کی گئی تھی۔

قانون میں اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ملک کو اپنا دار الحکومت منتخب کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اسرائیل نے سنہ 1950ء میں یروشلم کو اپنا مستقل پایہ تخت منتخب اور اپنے تمام وزارتی و انتظامی اداروں کا مرکز قرار دیا تھا۔ نیز یروشلم یہود کا دینی مرکز اور ان کے لیے انتہائی مقدس شہر بھی ہے۔ اس قانون کی یقینی تنفیذ کے لیے امریکی کانگریس نے اس کا اہتمام بھی کیا کہ اگر مذکورہ میعاد میں قانون پر عمل نہیں ہوتا ہے تو تنفیذی اداروں کو سزا دی جائے گی۔

امریکی سینیٹ کے بیس اراکین نے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا وعدہ کیا تھا لیکن کلنٹن، بش اور اوباما کے عہد صدارت میں اس پر عمل نہیں ہوا، وہ قومی سلامتی کے پیش نظر اپنا حق استثنا استعمال کرتے رہے۔ بالآخر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر 2017ء کو امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی اور اسے اسرائیل کا دار الحکومت مقرر کرنے کی منظوری دی، تاہم امریکی صدر کے اس اقدام کی عالمی برادری، مسلم ممالک اور فلسطینیوں نے سخت مذمت کی۔

حوالہ جات[ترمیم]