اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد A/ES-10/L.22

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی
قرارداد ES‑10/L.22
United Nations General Assembly resolution A ES 10 L 22 vote.png
   حمایت میں ووٹ
   مخالفت میں ووٹ
   غیر حاضر
   غیر جانب دار
تاریخ 21 دسمبر 2017
اجلاس نمبر دسویں ہنگامی خصوصی نشست (جاری)
کوڈ A/RES/ES‑10/L.22 (دستاویز)
موضوع یروشلم کی حیثیت
رائے شماری کا خلاصہ
128 ووٹ حق میں
9 مخالفت میں
35 احتراز
21 غیر حاضر
نتیجہ یروشلیم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے سے انکار

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کی قرارداد A/ES-10/L.22 ‏ 21 دسمبر 2017ء کو منظور ہوئی جس میں امریکا کی جانب سے یروشلیم کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دینے اور وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی گئی۔[1] اس قرارداد کا مسودہ ترکی اور یمن نے تیار کیا تھا۔[2] گرچہ امریکا نے اس قرارداد کی سخت مخالفت کی تاہم یہ 128 تائید اور 9 مخالف ووٹوں سے منظور کی گئی، اس رائے شماری میں 35 ممالک نے رائے دہی سے احتراز کیا جبکہ 21 ممالک اس دوران میں غیر حاضر رہے۔

رائے شماری[ترمیم]

رائے شماری[3] تعداد ممالک
حمایت 128 افغانستان، البانیا، الجزائر، انڈورا، انگولہ، ارمینیا، النمسا، آذربائجان، بحرین، بنگلادیش، باربادوس، روسیا البیضاء، بلجیئم، بلیز، بولیفیا، بوتسوانا، برازیل، برونائی، بلغاریا، بوركینا فاسو، بوروندی، الراس الاخضر، كمبودیا، تشاد، تشیلی، الصین، جزر القمر، الكونغو، كوستاریكا، ساحل العاج، كوبا، قبرص، كوریا الشمالیہ، ڈنمارک، جیبوتی، دومینیكا، الاكوادور، مصر، اریتریا، استونیا، اثوبیا، فنلندا، فرنسا، الغابون، غامبیا، المانیا، غانا، الیونان، غرینادا، غینیا، غیانا، آیسلندا، بھارت، انڈونیشا، ایران، عراق، ایرلندا، اطالیہ، جاپان، اردن، قزاقستان، کویت، قیرغیزستان، لاوس، لبنان، لیبیریا، لیبیا، لیختنشتاین، لیتوانیا، لگزمبرگ، مدغشقر، مالیزیا، المالدیف، مالی، مالطا، موریتانیا، موریشیوس، موناكو، الجبل الاسود، المغرب، موزمبیق، نامیبیا، نیبال، هولندا، نیوزیلینڈ، نیكاراغوا، نائجر، نائجریا، النرویج، عمان، باكستان، بابوا غینیا الجدیدہ، بیرو، البرتغال، قطر، جنوبی کوریا، روس، سانت فینسنت والغرینادین، سعودی عرب، السنغال، سربیا، سیشل، سنگاپور، سلوفاكیا، سلوفینیا، الصومال، جنوب افریقیا، ہسپانیہ، سری لنکا، سوڈان، سورینام، السوید، سویسرا، سوریا، تاجکستان، تھائی لینٖ، مقدونیہ، تونس، ترکی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، تنزانیہ، اوروغوای، ازبکستان، وینزویلا، ویتنام، یمن، زمبابوے
مخالفت 9 گواتیمالا، ہونڈوراس، اسرائیل، جزائر مارشل، ریاستہائے وفاقیہ مائکرونیشیا، ناورو، پلاؤ، ٹوگو، اریاستہائے متحدہ امریکا
احتراز 35 اینٹیگوا و باربوڈا، ارجنٹائن، آسٹریلیا، بہاماس، بینن، بھوٹان، بوسنیا و ہرزیگووینا، کیمرون، کینیڈا، کولمبیا، کرویئشا، چیک جمہوریہ، جمہوریہ ڈومینیکن، استوائی گنی، فجی، ہیٹی، مجارستان، جمیکا، کیریباتی، لٹویا، لیسوتھو، ملاوی، میکسیکو، پاناما، پیراگوئے، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روانڈا، جزائر سلیمان، جنوبی سوڈان، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، تووالو، یوگنڈا، وانواتو
غیر حاضر 20 جمهوریہ افریقیا الوسطى، جمهوریہ الكونغو الدیمقراطیہ، السلفادور، جورجیا، غینیا بیساو، كینیا، منغولیا، میانمار، مولدوفا، سانت كیتس ونیفیس، سانت لوسیا، ساموا، سان مارینو، ساو تومی وبرینسیب، سیرالیون، سوازیلاند، تیمور الشرقیہ، تونغا، تركمانستان، اوكرانیا، زامبیا
کل 193

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]